ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عوامی پریشانیوں سے چشم پوشی 

عوامی پریشانیوں سے چشم پوشی 

Thu, 10 Nov 2016 12:47:21    S.O. News Service

8؍نومبر2016ء ایسا دن ہے جو آئندہ کئی دنوں کئی مہینوں بلکہ کئی برسوں تک عوام کو یادرہے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ٹی وی کے اسکرین پر نمودار ہونا، قوم سے خطاب کرنا اور یہ بتانا کہ محض چند گھنٹوں بعد 5؍ سو اور ایک ہزار روپئے کے نوٹ مسترد ہو جائینگے ، ایسا عمل تھا جس سے ملک کے بعد بھونچکارہ گئے ۔ کالا دھن رکھنے والوں پر کیا گزری ہوگی یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن جو تنخواہ دار ہیں، کاروباری ہیں، مزدور ہیں اور روزانہ کی اُجرت پر کام کرتے ہیں، اُن کی نگاہوں کے سامنے اچانک گویا اندھیر اچھا گیا۔ اُن میں لاکھوں ایسے ہوں گے جنہوں نے بچی کی شادی کیلئے ، مکان خرید نے کیلئے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرنے کیلئے ، کوئی مہنگی گھریلو شے خریدنے کیلئے یا ایسی ہی کسی دوسری ضرورت کے تحت کچھ رقم پس انداز کی ہوگی۔ تنکا تنکا جوڑا ہوگا تا کہ نشیمن تعمیر کیا جاسکے۔ اگر اُن کا بینک اکاؤنٹ ہے تو تھوڑی بہت تکلیف ضرور ہوگی لیکن جمع شدہ رقم نئے نوٹوں میں تبدیل ہوکر اُنہیں دوبارہ مل جائیگی لیکن جن کا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے یا جن کے پاس پین کارڈ نہیں ہے، وہ اپنی رقم کو نئے نوٹوں کی شکل میں کس طرح حاصل کر پائینگے یہ ایک سوالیہ نشان ہے جو عوام کو خوفزدہ کررہا ہے ۔ اگر ایک مخصوص حد کے آگے انہیں ٹیکس ادا کرنے کیلئے کہا گیا تو یہ مرے پر سودرے کے مصداق ہوگا۔ 

کالے دھن کے خلاف کارروائی ہونے چاہئے تھی اور اب بھی بہت گنجائشیں موجود رہیں جہاں ایسے ہی ’’ سرجیکل اسٹرائک ‘‘ کے ذریعہ کارروائی ہوسکتی ہے لیکن کوئی بھی فیصلہ عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے ؟ صاف محسوس ہورہا ہے کہ یہ فیصلہ کرتے وقت عوام کو ہونے والی پریشانیوں کا بالکل بھی خیال نہیں کیا گیا ۔ اس اعتبار سے اسے غیر عوامی یعنی غیر جمہوری قرار دینے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا۔ 8؍ نومبر کی شام، وزیر اعظم کی تقریرجاری ہی تھی کہ منڈیوں ، بازاروں ، نکڑوں، دفتروں ، گلی کوچوں اور گھروں میں ایسی بے چینی پھیلی کہ رات میں تادیر جاری رہی اور پھر دوسرے دن کے سورج کے ساتھ ازسر نو آدھمکی ۔ ہمارے خیال میں یہ کیفیت ابھی کئی دن بلکہ کئی ہفتے جاری رہے گی اور ذاتی ، خاندانی ، کارروباری اور معاشی زندگی کو معمول پر آتے آتے کافی وقت لگ جائیگا۔ اس دوران عوام پریشان ہوتے رہیں گے جیسے آج ہورہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کالے دھن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ، اگر اس سے بڑی بھی کوئی کارروائی ہوسکتی ہے تو اُسے بھی عمل میں لانا چاہئے لیکن عوام کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں ۔ یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ اس اقدام کی خبر کا بینی وزراء کو بھی نہیں تھی ، سرکاری افسران کو بھی نہیں ۔ گنے چنے لوگوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اس کا اعتراف وزیر اعظم نے خود بھی اپنی تقریر میں کیا۔ اس ’’احتیاط‘‘ پر غور کیجئے تو جو نتیجہ اخذ ہوگا اور اس اقدام کے غیر جمہوری ہونے کی تائید مزید کریگا۔ کابینی وزراء تک کو اس کا پیشگی علم نہ ہونا اور بھی بہت کچھ سمجھاتا ہے ۔ اس پس منظر میں عوام کو بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔

آئندہ چند دنوں میں ظاہر ہوجائیگا کہ 5؍ سو اور ہزار کے نوٹ یکلخت بند ہونے سے عام آدمی پریشان ہوا ہے یا اُن افراد کو بھی کوئی سبق ملا ہے جن کی تجوریوں میں سفید کم اور سیاہ زیادہ ہوتا ہے۔ عام رائے یہ ہے کہ کالے دھن کا پجاری اُسے بچانے اور سفید کرنے میں ماہر ہوتا ہے اور اس بار بھی اپنی گردن بچانے میں کامیاب ہوجائیگا لیکن بے چارہ عام آدمی نا کردہ گنا ہی کی سزا بھگتے گا۔ اس وقت یہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے باہر سے کالا دھن لانے کا وعدہ کیا تھا ، اگر یہ اُس کی پہلی کڑی ہے تو عوام کو دوسری کڑی کا انتظار رہے گا !

(بشکریہ : انقلاب ، ممبئی ، 10؍ نومبر 2016)


Share: